
دبئی:اسرائیلی وزیر دفاع یو آو گلینٹ نے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے خلاف لڑائی ایک حقیقی جنگ میں بدل سکتی ہے۔
ان کے اس بیان سے قبل حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف کارروائی ہونے والی ہے۔ انہوں نے شام، عراق اور یمن میں اپنےاتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر حملے تیز کردیں۔
گیلنٹ نے شمالی سرحد پر لڑائی کی مشقوں کے دوران کہا کہ “نصر اللہ لبنان کو بھاری قیمت ادا کرنے کے لیے گھسیٹ رہی ہے”۔
انہوں نے لبنانی گروپ کے جواب میں مزید کہا”حزب اللہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ اس کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو سمجھنے کے لیے انہیں غزہ کی پٹی کی تصاویر دیکھنا ہوں گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ “آپ اسرائیلیوں کو ماریں تو پھر اسکی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی۔ یہ ہمارے لیے بیکار اور ناقابل قبول ہے”۔
گیلنٹ نے پہلے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیل کو کسی بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے منگل کے روز ایک بار پھر زور دیا کہ اسےسرکردہ رہ نما فواد شکر یا اسماعیل ھنیہ کے قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ ضرور کیا جائے گا۔
انہوں نے اسرائیل کو جواب دینے میں تاخیر کو “سزا کا حصہ” کا حصہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ “ہمارا ردعمل آئے گا چاہے ہم اکیلے ہوں یا ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہوں‘۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران تہران میں ہنیہ کے قتل اور ایک حملے میں حزب اللہ رہ نما فواد شکر کے قتل کے بعد ایک طرف ایران اور اس کے اتحادیوں اور دوسری طرف اسرائیل کے درمیان فوجی کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیل نے تا حال اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
جیسے جیسے جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی نظام کو مضبوط بنانے، اپنے فوجیوں اور اپنے اتحادی اسرائیل کی حفاظت کے لیے مزید جنگی جہازوں اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

