
دبئی:فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے فون پر بات کرتے ہوئے ان سے کشیدگی سے بچنے اور انتقام کے چکروں میں نہ پڑنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی سے بچنے کے لیے اپنی ہرممکن کوشش کریں۔ انتقام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ایلیسی پیلس کی جانب سے پریس کو جاری ایک بیان کے مطابق صدر میکروں نے کہا کہ ایران کو اپنی وفادار ملیشیاؤں پر پر زور دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ صورت حال کو ہوا دینے سے بچا جا سکے۔
میکروں نے زور دیا کہ “خطے میں امن اور سلامتی لانے اور اعتماد سازی کے لیے پیرس ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ اس حوالے سے ایران کی جانب سے بھی تعاون درکار ہے۔ایران کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے”۔
اس سے قبل بدھ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کے ساتھ ایک فون کال میں کہا کہ ان کا ملک اپنے مفادات اور سلامتی پر حملوں کے بارے میں خاموش نہیں رہے گا اور بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق کارروائی کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران اسرائیل کو مناسب جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس نے ہمارے مہمان کو ہماری سرزمین پرقتل کیا ہے اور یہ معمولی بات نہیں۔
دریں اثنا ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف نے ایک بار پھر اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کا جواب ناگزیر ہے اور اسرائیلی قتل و غارت پرخاموش نہیں رہیں گے۔
گذشتہ ہفتے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل اور بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی حزب اللہ کے ممتاز فوجی کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

