
نئی دہلی:اتر پردیش کی شہزادی کو 15 فروری کو متحدہ عرب امارات میں پھانسی دی گئی۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں یہ جانکاری دی ہے۔ شہزادی کی آخری رسومات مارچ میں ادا کی جائیں گی۔ اے ایس جی چیتن شرما نے یہ بھی بتایا کہ اہلکار ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں اور ان کی آخری رسومات 5 مارچ کو ادا کی جانی ہیں۔ شہزادی کے والد نے متحدہ عرب امارات میں اپنی بیٹی کی سزائے موت پر وزارت خارجہ کی مداخلت کے لیے یہ درخواست دائر کی تھی۔ اس اطلاع کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفارت خانے کو 28 فروری 2025 کو متحدہ عرب امارات کی حکومت سے باضابطہ اطلاع ملی کہ شہزادی کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایم ای اے نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ شہزادی کو 15/02/2025 کو متحدہ عرب امارات کے قوانین اور ضوابط کے مطابق پھانسی دی گئی۔
شہزادی کون ہے؟
سال 2021 میں باندہ کے ماتاونڈ تھانہ علاقے کے گویارا مغلی گاؤں کے رہنے والے شہزادی کو ابوظہبی بھیجا گیا تھا۔ شہزادی کو ابوظہبی بھیجنے والا شخص عزیر ہے جو آگرہ کا رہنے والا ہے۔ اس نے پرتعیش زندگی اور چہرے کے علاج کا وعدہ کرکے شہزادی کو لالچ دیا اور پھر اسے آگرہ کے ایک جوڑے کو بیچ دیا۔ اس پر باندہ سی جے ایم کورٹ کے حکم پر دبئی میں رہنے والے آگرہ کے جوڑے اور ملزم عزیر کے خلاف بھی انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شہزادی ابوظہبی میں جوڑے کے بیٹے کی دیکھ بھال کرتی تھی اور اچانک ایک دن بچے کی موت ہو گئی جس پر جوڑے نے بچے کی موت کا ذمہ دار شہزادی کو ٹھہرایا۔ اس معاملے میں تفتیش کے بعد ابوظہبی کی عدالت نے شہزادی کو گرفتار کر کے موت کی سزا سنائی تھی۔
شہزادی کے والد شبیر خان نے ضلع انتظامیہ اور حکومت کو شکایت بھیجی تھی اور اس معاملے میں اپنی بیٹی کو بچانے کی اپیل کی تھی۔ آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ مقتولہ شہزادی جب چھوٹی تھی تو کچن میں کام کرتے ہوئے آگ لگنے سے بری طرح جھلس گئی تھی۔ اس سے وہ پریشان ہوگئی اور 2020 میں سوشل میڈیا کے ذریعے آگرہ میں رہنے والے عزیر نامی شخص سے رابطے میں آئی اور ان کے درمیان قربتیں شروع ہوگئیں۔ 2021 میں، عزیر شہزادی کو اس کے چہرے کے علاج کے بہانے آگرہ لے گیا۔
پھانسی سے قبل شہزادی نے دبئی سے اپنے اہل خانہ کو فون کیا اور بتایا کہ انہیں ایک الگ کمرے میں رکھا گیا ہے اور جیل کے کپتان نے انہیں آگاہ کر دیا ہے کہ انہیں اگلے 24 گھنٹوں میں پھانسی دے دی جائے گی۔
جیل انتظامیہ نے ان کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھا تھا جس پر شہزادی نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اسی کے تحت اس بات چیت کا اہتمام کیا گیا۔ بیٹی کی اس آخری فون کال کے بعد سے شہزادی کے گھر اور گاؤں میں افراتفری مچ گئی ۔ شہزادی کے والدین اب بھی رو رہے ہیں اور اپنی بیٹی کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں۔ شہزادی کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت اور حتیٰ کہ صدر مملکت سے بھی درخواست کی لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔

