
ممبئی: معروف صنعت کار رتن ٹاٹا بدھ کو ممبئی کے ایک اسپتال میں چلے بسے ۔ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندراسیکارن نے بدھ کو رتن ٹاٹا کی موت کی تصدیق کی۔اپنے بیان میں کہا کہ یہ بہت گہرے دکھ کے ساتھ ہے کہ ہم رتن نول ٹاٹا کو الوداع کہہ رہے ہیں، جو ایک بے مثل لیڈر تھے جن کی خدمات نے نہ صرف ٹاٹا گروپ بلکہ ہمارے ملک کے معاشرتی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا۔ 86 سالہ صنعتکار نے اس ہفتے کے شروع میں عوام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا اسپتال میں قیام ایک معمول کی طبی جانچ کا حصہ ہے ۔جو ان کی عمر اور صحت کے مسائل سے متعلق تھا۔بڑھتی عمر کی وجہ سے انہیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ طویل عرصے سے انہیں ملک کا سب سے بڑا اعزاز بھارت رتن دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ پورے ملک کے لوگوں میں رتن ٹاٹا کے لیے بے پناہ عزت تھی۔ صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی سینئر لیڈروں اور صنعت کاروں نے ان کے انتقال پر غم کا اظہار کیا ہے
صدر دروپدی مرمو نے انسان دوستی میں ان کی شراکت پر لکھا، ان کے خاندان، ٹاٹا گروپ اور پوری دنیا کے لیے میں ان کے مداحوں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ ’رتن ٹاٹا ایک بصیرت افراز کاروباری شخصیت اور ایک غیر معمولی انسان تھے، انہوں نے ملک کے سب سے پرانے اور معروف کاروباری اداروں میں سے ایک کو مستحکم قیادت فراہم کی۔
پی ایم مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مجھے شری رتن ٹاٹا جی کے ساتھ بے شمار بات چیت یاد ہے۔ جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو اکثران سے ملتا تھا۔ ہم مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ میں نے اس کا نقطہ نظر بہت امیر پایا۔ جب میں دہلی آیا تو یہ گفتگو جاری رہی۔ ان کے انتقال پر انتہائی دکھ ہوا ہے۔ غم کی اس گھڑی میں میرے خیالات ان کے خاندان، دوستوں اور مداحوں کے ساتھ ہیں۔
آنند مہندرا نے رتن ٹاٹا کے انتقال پر کہا کہ۔۔۔ میں رتن ٹاٹا کی عدم موجودگی کو قبول کرنے سے قاصر ہوں۔ ہندوستان کی معیشت ایک تاریخی چھلانگ لگانے کے راستے پر ہے اور رتن کی زندگی اور کام کا ہمیں اس مقام پر پہنچانے میں بہت بڑا حصہ ہے، اس لیے ان کی رہنمائی۔اس وقت انمول ہوتا ہم صرف اس کی مثال کی تقلید کرنے کا عہد کر سکتے ہیں۔
گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے رتن ٹاٹا کی موت پر کہاکہ ۔۔۔گوگل میں رتن ٹاٹا کے ساتھ میری آخری ملاقات میں، ہم نے وائیمو کی ترقی کے بارے میں بات کی تھی اور اس کے وژن کو سن کر یہ متاثر کن تھا۔ اس نے ایک غیر معمولی کاروبار اور انسان دوستی کی میراث چھوڑی ہے۔ اور اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان میں جدید کاروباری قیادت کی رہنمائی کرتے ہوئے وہ اپنے پیاروں کے ساتھ گہری تعزیت کرتے ہیں۔
رتن ٹاتا کو بدھ کی صبح نازک حالت میں ممبئی کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ایک بیان میں این چندراسیکارن کا کہنا تھا کہ ’ہم انتھائی دکھ کے ساتھ مسٹر رتن نیول ٹاٹا کو الوداع کہتے ہیں، جو کہ ایک غیرمعمولی رہنما تھے جن کی گوناگوں خدمات نے نہ صرف ٹاٹا گروپ بلکہ ہماری قوم کی بنیادیوں کو استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’ٹاٹا گروپ کے لیے رتن ٹاٹا ایک چیئرمین سے بڑھ کر تھے۔ میرے وہ مینٹور، رہنما اور دوست تھے۔ انہوں نے اپنے عمل سے لوگوں کو انسپائر کیا۔ مسٹر ٹاٹا کی فلاحی کاموں اور معاشرے کو ترقی دینے کے عزم نے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا۔ تعلیم سے لے کر صحت تک ان کے فلاحی کاموں اور اقدامات نے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جن سے آنے والی نسلیں مستفید ہوں گی۔ ‘ رتن ٹاٹا 1991 میں گاڑیوں اور سٹیل کی صنعت سے منسلک ٹاٹا گروپ کے چیئرمین بنے اور 2012 تک گروپ اس عہدے پر فائز رہے۔
رتن ٹاٹا نے ٹاٹا گروپ کے کاروبار کو نہ صرف وسعت دی بلکہ دنیا کی ’سستی ترین‘ گاڑی متعارف کرانے کا اعزاز بھی گروپ کو دلایا۔ 2012 رتن ٹاٹا گروپ کے چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہوئے جس کے بعد ٹاٹا سنز، ٹاٹا انڈسٹریز، ٹاٹا موٹرز، ٹاٹا سٹیل اور ٹاٹا کیمیکلز کا چیئرمین ایمیریٹس بنایا گیا تھا۔

