Homeدنیاقرآنِ پاک کا سندھی ترجمے والا قلمی نسخہ، پاکستان کے شہر کراچی...

قرآنِ پاک کا سندھی ترجمے والا قلمی نسخہ، پاکستان کے شہر کراچی میں نسل در نسل منتقل

کراچی:ایک 76 سالہ ریٹائرڈ شماریات دان صغیر حسین بھوجانی رواں ماہ کے شروع میں کراچی میں اپنے گھر پر قرآنِ پاک کا سندھی ترجمہ پڑھ رہے تھے جبکہ ان کے نوعمر بھتیجے مشہود شعیب بھوجانی نے قرآنِ پاک کے قلمی نسخے سے عربی آیات کی تلاوت کی۔
یہ روزانہ کی رسم مارواڑی خاندان کے لیے نہ صرف ایک روحانی عمل ہے بلکہ ایک پل کے طور پر بھی کام کرتی ہے جو انہیں قرآن کے ترجمے سے جوڑتا ہے۔ بھوجانی کے دادا عبداللطیف سلطان دینو بھوجانی کو یہ نسخہ ہاتھ سے لکھنے اور مکمل کرنے میں دو عشروں سے زیادہ کا عرصہ لگا جو 1932 میں مکمل ہوا۔
مقدس کتاب کے موجودہ متولی بھوجانی نے عرب نیوز کو سندھی ترجمے والے قلمی قرآنی نسخے کے بارے میں بتایا، “یہ [قرآنی] نسخہ ہمارے لیے سب سے بڑا خزانہ ہے جو اللہ نے ہمیں ہمارے دادا کے توسط سے عطا کیا ہے۔”
راجستھانی بولنے والے خاندان کے بھوجانی نے کہا کہ انہوں نے یہ نقل اپنی والدہ سے حاصل کی تھی جنہیں یہ 20 سال کی عمر میں ان کے سسر سے ملی۔
“میرے سسر نے مجھ پر اعتماد کیا،” 95 سالہ زیتون بھوجانی نے عرب نیوز کو بتایا اور یاد کیا کہ عبداللطیف کو کیسے یقین تھا کہ وہ اس ترجمے کی دیکھ بھال کر سکیں گی جس کی تیاری میں انھوں نے عشرے صرف کیے تھے اور 1948 میں انھیں یہ مقدس کتاب سونپ دی تھی۔ اس کے چند ہی ماہ بعد 20 جنوری 1949 کو 65 سال کی عمر میں وہ انتقال کر گئے۔
زیتون بھوجانی نے کہا کہ ان کے سسر کاغذات سے بھری ایک پیٹی اپنے ساتھ رکھتے تھے جس میں سے کتاب نکالنے میں انہوں نے زیتون بھوجانی کی مدد مانگی۔ انہوں نے حیدرآباد، روہڑی اور آخرِ کار کراچی میں سکونت اختیار کی جہاں آج کل جیسلمیر کی سلوات برادری آباد ہے۔ یہ تقریباً دو صدیاں قبل ہندوستان سے ہجرت کرنے کے بعد کاروبار کے لیے اس خطے میں آباد ہو گئے۔
زیتون نے قرآن کا نسخہ محفوظ رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی تین بیٹیاں اور چھ بیٹے اسے باقاعدگی سے پڑھیں لیکن جیسے جیسے وہ عمر رسیدہ ہوتی گئیں تو انہوں نے یہ نسخہ اپنے بڑے بیٹے بھوجانی کو دینے کا فیصلہ کیا۔
۔1886 میں پیدا ہونے والے عبداللطیف پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے پہلے مسلم میئر تھے اور متعدد بار بلدیہ کوٹری کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ لیکن سوریہ بادشاہ کے قریبی ساتھی ہونے کے ناطے انہیں اپنی جائیداد کے بڑے حصے سے محروم ہونا پڑا۔ سوریہ بادشاہ ہندو مسلم اتحاد کے ایک چیمپیئن اور انگریزوں کے ہاتھوں سزائے موت پانے والے ایک آزادی پسند مجاہد تھے۔
بھوجانی نے کہا، “ہمیں اس نقصان پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ہمیں اس سے کہیں زیادہ قیمتی میراث قرآن پاک سے نوازا ہے۔ ہم اس پر جتنا بھی فخر کریں، کم ہے۔”
عبداللطیف مارواڑی بولتے تھے لیکن اپنے پوتے کے مطابق دو وجوہات کی بناء پر سندھی میں لکھنے کا انتخاب کیا: اول مارواڑی خود اس وقت کوئی رسمی زبان نہیں تھی اور دوسری بات وہ سندھی میں کہیں زیادہ ماہر تھے۔
“وہ کوٹری میں سب سے نمایاں شخصیت تھے،” بھوجانی نے کہا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سندھی مخطوطہ جو مکمل ہونے کے وقت نایاب تھا، کبھی شائع نہ ہو سکا۔
سندھ میں گریڈ 18 کے چیف شماریات دان کے طور پر ریٹائر ہونے والے بھوجانی نے عرب نیوز کو بتایا، “میرے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے اور انہیں زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔”
انہوں نے کہا، “یہ بھی میری اپنی نااہلی ہے کہ میں نے بعد میں اس [کی اشاعت] پر توجہ نہیں دی۔۔ اسے محفوظ کیا اور پڑھا جانا چاہیے جس طرح میرے دادا نے اسے تیار کرنے کے لیے محنت کی تھی۔”
بھوجانی کے بھتیجے کمپیوٹر سائنس کے طالب علم 18 سالہ مشہود نے کہا کہ وہ وراثت میں ملنے والی کتاب کو پڑھنے اور محفوظ کرنے کی خاندانی روایت کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے تلاوت سے تھوڑا وقفہ کرتے ہوئے کہا، “ہماری مادری زبان راجستھانی ہے اور یہ قرآن [کی نقل] سندھی میں ہے۔ میں اب بھی اسے اپنے چچا کے ساتھ پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مجھ جیسے لوگ ہمارے خاندان میں رہیں جو اسے پڑھنا اور سمجھنا جاری رکھ سکیں۔”

RELATED ARTICLES
- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments