
پیرس :فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان کے لیے بین الاقوامی کانفرنس جس کا اعلان صدر عمانویل میکروں نے کیا تھا 24 اکتوبر کو منعقد کی جائے گی تاکہ لبنانی عوام کی مدد اور ملکی اداروں کی مدد کے لیے بین الاقوامی برادری کی صفوں کو متحرک کیا جا سکے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ “یہ وزارتی کانفرنس لبنان کے شراکت دار ممالک، اقوام متحدہ، یورپی یونین، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں اور سول سوسائٹی پر مشتمل ہوگی”۔
فرانسیسی صدر نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ یہ کانفرنس جلد ہوگی تاہم اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی برادری کی صفوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ لبنان کے عوام کی فوری تحفظ اور امدادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور لبنانی اداروں بالخصوص لبنانی مسلح افواج کی مدد کے طریقوں کی نشاندہی کی جا سکے جو کہ اندرون ملک استحکام کی ضمانت دیتے ہیں”۔
سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حماس کے بے مثال حملے کے بعد جہاں ایک طرف غزہ میں خوفناک جنگ شروع ہوئی وہیں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان کا محاذ بھی گرم ہوگیا، جہاں اب دونوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
اعلان کردہ ہدف حزب اللہ کو سرحدی علاقوں سے ہٹانا ہے جہاں وہ موجود ہے اور شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ داغنا بند کرنا ہے تاکہ اس کے تقریباً 60,000 بے گھر باشندوں کو اپنے گاؤں واپس جانے کی اجازت دی جا سکے۔
لبنان میں تشدد کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ایک خطرناک اور گہرے سیاسی اور انسانی بحران کے تناظر میں فرانس اس کانفرنس کے ذریعے لڑائی روکنے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی بنیاد پر ایک سفارتی حل تک پہنچنے کی فوری ضرورت پر توجہ مرکوز کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں صدر کا انتخاب “سیاسی اداروں میں نظم و ضبط کی واپسی کی طرف پہلا قدم ہے”۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تشدد میں 23 ستمبر سے اب تک دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

