Homeکاروبارایل اینڈ ٹی کے چیئرمین کے بعد اب گوگل نے اپنے ملازمین...

ایل اینڈ ٹی کے چیئرمین کے بعد اب گوگل نے اپنے ملازمین کو 60 گھنٹے کام کرنے کی دی نصیحت

نئی دہلی:گوگل مصنوعی جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) کے مقابلے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ اس تناؤ کی وجہ سے کمپنی کے شریک بانی سرگے برن نے اپنے ملازمین کو ہفتے میں 60 گھنٹے کام کرنے اور روزانہ دفتر آنے کا مشورہ دیا ہے۔ برن نے اندرونی میمو میں کہا کہ گوگل اے آئی ریس جیت سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ملازمین کو پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔
انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی نے 40 سال تک ہر ہفتے 70 گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔ نارائن مورتی کے بیان کے بعد ایل اینڈ ٹی کے چیئرمین ایس این سبرامنین نے 90 گھنٹے کام کرنے کی بات کی۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر کافی بحث ہوئی۔ اب گوگل نے اپنے ملازمین کو 60 گھنٹے کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
روزانہ دفتر آنے کا مشورہ
برن نے اپنے ملازمین سے کہا کہ وہ ہر کام کے دن دفتر آئیں اور اپنی پیداوار میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ آپ سب 60 گھنٹے کام کریں۔ لیکن اگر آپ اس سے زیادہ کرتے ہیں، تو برن آؤٹ ہو سکتا ہے۔
برن نے کہا کہ کچھ ملازمین کم کام کر رہے ہیں، جو باقی ٹیم کے حوصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ ٹیم کے لیے بہت برا عمل ہے۔
گوگل اے آئی کی دوڑ میں آگے نکلنا چاہتا ہے
گوگل نے اتنا بڑا فیصلہ لیا ہے کیونکہ گوگل کی اے جی آئی ڈیولپمنٹ ٹیم اے آئی جیمنی پر کام کر رہی ہے۔ برن کے مطابق اگر ملازمین اپنی طرف سے زیادہ محنت کریں تو گوگل اے آئی کی دنیا میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔ اے جی آئی کی فائنل ریس شروع ہو گئی ہے۔ جسے گوگل جیتنے کی پوری کوشش کرے گا۔
ٹیک کمپنیاں ہائبرڈ ورک پالیسی سے پیچھے ہٹ رہی ہیں
برن کے فیصلے سے ایک چیز واضح ہے کہ ٹیک کمپنیاں ہائبرڈ ورک پالیسی سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ وہ اپنے ملازمین کو کل وقتی دفتر میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے کئی کمپنیاں اپنے ملازمین کے اوقات کار بڑھانے کی پالیسی اپنا چکی ہیں۔
۔2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے بعد سےاے آئی کے لیے جنگ ایک طویل سفر طے کر چکی ہے۔ مائیکروسافٹ، اوپن اے آئی اور میٹا جیسی کمپنیاں بھی اے جی آئی کی دوڑ میں اپنا داؤ لگا رہی ہیں۔

RELATED ARTICLES
- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments