
نئی دہلی : آج دنیا میں ہر جانب فساد اور فتنہ پھیلا ہوا ہے،ہر جانب سے ہمیں برائیوں کی جانب لے جانے کی کو شش کی جارہی ہے آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کا پیغام سمجھیں اور صحیح راستہ اختیار کریں۔ علما کو نصحت کرتے ہوئے کہا کہ علم حاصل کرنے کا سلسلہ رکے نہیں،پڑھتے رہیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ ہمیں مزید علم عطا فرمائیں ۔
یہ پیغام مسجد نبوی کے امام ڈاکٹر عداللہ بن عبدالرحمن البعیجان نے رام لیلا میدان سے مسلمانان ہند کودیا جو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند زیر اہتمام ’’ احترام انسانیت ومذاہب عالم‘ کانفرنس کے آخری دن خطاب کررہے تھے ۔
امام مسجد نبوی نے کہا کہ اللہ کا تقوی کریں ،یہی نجات کا راستہ ہے ،دنیا میں اللہ نے بے انتہا نعمتوں سے نوازا ہے ،جن میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ دین کا پابند کیا ہے ۔یہی دین ہمیں آخرت میں محفوظ رکھے گا ۔
انہوں نے کہا اللہ نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ہمیں دین حنیف عطا فرمایا ہے اور اسی دین پر چلنے سے ہمیں نجات ملے گی اور اس دین کی خدمت امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ مسجد نبوی کے امام محترم ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمن البعیجان نے برائیوں، فتنہ وفساد اور دیگر برائیوں سے بچنے کے لئے امت کو سارے معاملات میں کتاب وسنت کو سمجھنے اور سلف صالحین کے منہج کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سلف صالحین کی توجیہات و تشریحات کی بنیاد پر ہی ہم کتاب وسنت کو صحیح سے سمجھ سکتے ہیں اور اس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ قرآن کے ساتھ تعلق قائم رکھیں۔ کیونکہ قرآن ہی اللہ کی مضبوط رسی اور سیدھا راستہ ہے۔ قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل پر بڑے اجر کا وعدہ ہے۔ امام محترم نے جمعیت اہل حدیث ہند کو اتنے بڑے اجتماع منعقد کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے آخر میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سفر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور ہر موقع پر سفری مشقتوں کو دور کرنے میں ان کا تعاون کیا۔
صدر کا نفرنس مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کہا کہ اسلام امن و شانتی اور بھائی چارہ کا مذہب ہے، وہ پرامن معاشرہ اور بقائے باہم کا شروع سے حامی رہا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر اس نے احترام انسانیت کی تاکید کی ہے۔ اسلام کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس کے متبعین نے مذہبی رواداری کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ دیگر مذاہب نے بھی مذہبی رواداری کا جو درس دیا ہے ان مذاہب کے متبعین کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ آپسی میل ملاپ ، قومی یکجہتی اور ہمدردی کے جذبے کی تعلیمات بلاتشبہ و بلا تزلزل ایمانی و مرعوبیت کے پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا میں امن و امان قائم کر سکتے ہیں۔ چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑ اوہ احترام کا مستحق ہے۔ اسلام نے عدل و مساوات کا جو نظام قائم کیا ہے وہ پوری دنیا کے لئے باعث خیر و برکت ہے۔ ہم عمل کی دنیا میں اتریں ۔ انھوں نے کا نفرنس میں سب کے تعاون پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اہل حدیث نے صحابہ کرام کی جماعت کے بعد سب سے زیادہ نظم وضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ صحابہ کرام کا عمل ہم سبھی کے لئے نمونہ ہے ہم خود بھی نظم وضبط کا پابند بنائیں اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ کتاب وسنت کی نشر واشاعت کرنے والے ہمارے لئے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی ہر سطح پر ہونی چاہیے۔ امیر محترم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کی مشکلات اور آزمائش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ طائف ہمیں ہمت و حوصلہ کا سبق دیتا ہے اور سورش بر پا کرنے سے روکتا ہے۔ اور ہمارے اسلاف بھی اس نبوی اسوہ پر کار بند ر ہے۔
حافظ عبدالواحد ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث تمل ناڈو پانڈیچری نے کانفرنس کو موجودہ عالمی حالات کے مطابق کافی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سبھی مذاہب کے متبعین کو مذہب کی مشترکہ اقتدار غریبوں کو کھانا کھلانا، ماں باپ کی خدمت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ شیخ عبدالرحمن السلفی کیرالا نے کہا کہ اللہ نے انسان کو سب سے اچھی مخلوق بنایا اس لئے ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے ۔ موجودہ ماحول میں اس طرح کی کانفرنس کے انعقاد وقت کا تقاضہ ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ لقمان سلفی رئیس جامعہ امام ابن تیمیہ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب پوری دنیا انتہائی پر آشوب دور سے گزر رہی ہے۔ اسلام نے احترام انسانیت کی بہت تاکید ہے ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث آندھرا پردیش نے کہا کہ احترام انسانیت کا تصور سبھی مذاہب میں موجود ہے لیکن عمل نہیں ہو رہا ہے۔ پینتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ احترام انسانیت کو عملی جامہ پہنانے کی دعوت دی جائے۔

