دبئی:منگل کے روز اردن کے ساحلی شہر السویما میں منعقدہ غزہ ایمرجنسی رسپانس کانفرنس نے کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں پٹی میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کانفرنس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجاویز پر عمل درآمد کرتے ہوئے غزہ میں لڑائی روکنے اور جنگ سے تباہ حال لوگوں کے لیے امداد کی فراہمی پر زور دیا۔
غزہ ایمرجنسی رسپانس کانفرنس کے مشترکہ بیان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی’اونروا‘ کو اپنا کام کرنے کے قابل بنانے اور غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کی محفوظ واپسی کے لیے ضروری شرائط کو یقینی بنانے کے لیے ضروری مدد اور پائیدار مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بامقصد اور تعمیری امن بات چیت شروع کرنے پر بھی زور دیا تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کی راہ ہموار ہوسکے۔
کانفرنس نے غزہ میں قید تمام یرغمالیوں اور زیر حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
سربراہی اجلاس میں شریک رہ نماؤں نے امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے جنگ سے تباہ حال غزہ میں بڑی مقدار میں امداد کے داخلے کو آسان بنانے پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام اور ہلاکتیں ان کی رفتار اور پیمانے کے لحاظ سے ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ ان برسوں کے دوران غزہ میں جو کچھ ہوا وہ لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “میں امن اقدام کا خیرمقدم کرتا ہوں، جس کا وسیع خاکہ صدر بائیڈن نے حال ہی میں پیش کیا ہے۔ میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایک معاہدے تک پہنچیں”۔
گوتریس کا کہنا تھا کہ “آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایک ایسے سیاسی تصفیے کی تلاش میں مضمر ہے جو پائیدار امن کی راہ ہموار کرے، جس کی بنیاد پر دو ریاستی حل کا وجود عمل میں لایا جائے۔ فلسطین اور اسرائیل دو پڑوسی ریاستوں کے طور پر وجود میں آئیں۔ 1967 کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے اورمشرقی یروشلم کو اس کے دارالحکومت کا درجہ دیا جائے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے غزہ کی جنگ کو “انسانیت کی توہین” قرار دیا۔ انہوں نےآئندہ دسمبر تک غزہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیےاڑھائی ارب ڈالر جمع کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل سے اردن پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ طے کی کوشش غزہ کے مکینوں کی مدد کے لیے ایک بہترین موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ فلسطینیوں کے لیے 400 ملین ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کرے گا۔
اس موقعے پر ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ ان کا ملک 16 ملین یورو فراہم کرے گا۔
انڈونیشیا کے نومنتخب صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ انڈونیشیا طبی ٹیمیں، ایک فیلڈ ہسپتال اور ایک ہسپتال کا جہاز غزہ بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ وہ 1000 زخمی فلسطینیوں کے بیرون ملک علاج میں مدد فراہم کرے گا۔
عمان کے مغرب میں 50 کلومیٹر دور بحیرہ مردار کے ساحل پر واقع سویما میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس اردنی بادشاہ، مصری صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دعوت پر شاہ حسین بن طلال کنونشن سینٹر میں منعقد کی گئی ہے۔
کانفرنس سے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور دیر پا امن کے حصول کےلیے ہرممکن اقدامات پر زور دیا۔