
نئی دہلی:اپریل کا مہینہ دہلی کے بجلی صارفین کے لیے مہنگائی کا اشارہ لے کر آسکتا ہے۔ اپریل میں ٹیرف میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ بنیادی طور پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں(ڈیسکام)کے زیر التواء واجبات کو ادا کرنے کی ریاستی حکومت کی تیاریوں کی وجہ سے ہے۔ اس کے لیے حکومت نے پہلے سے ہی اہم تیاریاں کر رکھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، دہلی میں بجلی کے نرخوں میں اپریل میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ دہلی حکومت تین پاور ڈسکام کو بقایا ₹ 38,000 کروڑ سے زیادہ کی ادائیگی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، دہلی حکومت صارفین پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر سبسڈی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سبسڈی سے دہلی کے باشندوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ حکومت دہلی کے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ نے دہلی کی تین نجی تقسیم کار کمپنیوں(بی آر پی ایل، بی وائی پی ایل اور بی آر پی ایل کو سات سال کے اندر اندر 27,200 کروڑ روپے کے ریگولیٹری اثاثوں کی ادائیگی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ریگولیٹری اثاثے وہ اخراجات ہیں جن کی مستقبل میں وصولی متوقع ہے۔ عام آدمی پارٹی کے تحت گزشتہ ایک دہائی کے دوران بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
حکومت ممکنہ ٹیرف میں اضافے کے درمیان صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سبسڈی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کا براہ راست عام عوام پر اثر نہ پڑے۔ حکام نے اتوار کو کہا کہ اس سے کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر گھریلو صارفین کو، اگرچہ حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صارفین پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر سبسڈی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدم ڈسکام کی مالی صحت کو بہتر بنانے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔ دیرینہ بقایا جات اور لاگت کے دباؤ نے ٹیرف پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاں دہلی میں بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کے واضح آثار ہیں، وہیں حکومت توازن برقرار رکھتے ہوئے صارفین کو راحت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات سے صارفین کو کس حد تک ریلیف ملے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

