
چنڈی گڑھ:پنجاب میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن اس سے پہلے ہی بھگونت مان کی حکومت نے عوام کو لبھانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے پہلے ہی دن پنجاب کے عوام کو اہم ریلیف فراہم کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے تمام زمروں کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 50 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔
بھگونت مان کی زیرقیادت عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت نے جمعہ کو پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن بجلی کے نرخوں میں ریکارڈ توڑ کمی کا اعلان کیا، جس سے بجلی صارفین کو اہم ریلیف مل رہا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے 1.5 روپے فی یونٹ تک کمی کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ کمرشل دکانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں 79 پیسے فی یونٹ تک کمی کی گئی ہے۔ پنجاب اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن(پی ایس ای آر سی) کی جانب سے اعلان کردہ نئے نرخ اگلے ماہ یکم اپریل سے نافذ العمل ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے صنعتی یونٹس کے لیے بجلی کے نرخوں میں بھی 74 پیسے فی یونٹ کمی کر دی ہے۔ جب کہ الیکٹرک وہیکل(ای وی پی) چارجنگ اسٹیشنوں کی شرح کم کر کے ₹5 فی یونٹ کر دی گئی ہے، نئی شرح اب ملک میں سب سے کم ہو گئی ہے۔ اس نئے اعلان سے بجلی کے صارفین کو 7,851.91 کروڑ روپے کی کل راحت ملے گی۔
بجلی کی فراہمی کی اوسط شرح ₹7.15 فی کلو واٹ سے کم کر کے ₹6.15 فی کلو واٹ کر دی گئی ہے۔ کم ٹیرف کے باوجود حکومت کو بجلی کی سبسڈی کا بوجھ کم کرنے سے فائدہ ہوگا۔ پنجاب اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے اعلان کیا کہ بجلی کے نرخوں میں یہ تبدیلی یکم اپریل سے نافذ العمل ہوگی۔
بجلی کے نرخوں سے متعلق نئے ٹیرف آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھگونت مان کی حکومت کے دور میں پنجاب اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن(پی ایس پی سی ایل)پہلی بار ایک موثر اور منافع بخش کمپنی بنی۔پی ایس پی سی ایل نے اے پلس کی درجہ بندی حاصل کی اور مالی سال 2024-25 میں ₹2,634 کروڑ کا منافع کمایا، جس کی وجہ سے پنجاب کے لوگوں کے لیے اس اہم ریلیف کا اعلان ہوا۔(تصویر:پی ٹی آئی)

