
لکھنؤ:میرٹھ کے کپساد گاؤں میں ایک دلت خاتون کے قتل کا ہنگامہ ابھی تھما نہیں تھاکہ میرٹھ کے رادھنا علاقے میں پسماندہ ذات کے ایک اور نوجوان کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ملزم نے شناخت چھپانے کے لیے لاش کو جلا دیا۔ اب اس معاملے پر اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔
بی ایس پی سپریمو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، “اتر پردیش کے میرٹھ کے سردھنہ علاقے میں پسماندہ کشیپ برادری کے ایک نوجوان کو زندہ جلانے کے وحشیانہ اور شرمناک واقعے کی صرف مذمت کافی نہیں۔ ایسے المناک واقعات کو روکنے کے لیے حکومت اور انتظامیہ دونوں سطح پر مسلسل چوکسی اور سرگرمی کی ضرورت ہے۔ ایسے مجرموں کو سخت سزا دینے کی ضرورت ہے۔”
اس معاملے میں پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق سردھنہ تھانے کی حدود سے ملنے والی نامعلوم جزوی طور پر جلی ہوئی لاش کے معاملے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں متوفی کی شناخت کر کے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول کو شراب کے نشے میں جھگڑے کے دوران اینٹ مار کر ہلاک کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اکھے پور-سردھنہ روڈ پر کسان پبلک اسکول کے سامنے ایک نوجوان کو اینٹوں سے مار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ملزم نے شناخت چھپانے کے لیے لاش کو جلا دیا۔ جب اسکول کے چوکیدار کو جزوی طور پر جلی ہوئی لاش ملی تو اس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔
متوفی کی شناخت 28 سالہ روہت عرف رونو ولد سریندر کے طور پر ہوئی ہے جو مظفر نگر کے کوتوالی تھانے کا رہائشی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دی گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعہ سے قبل جس ٹیمپو ڈرائیور کے ساتھ متوفی کو دیکھا گیا تھا اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دونوں ایک ساتھ شراب پی رہے تھے اور کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد ملزم نے شناخت چھپانے کے لیے روہت کو اینٹ سے مارا اور اسے جلا دیا۔

