
واشنگٹن:امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر مارکو روبیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے ارکان کے ویزوں کو مسترد اور منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجلاس فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے کے پیشِ نظر بلایا جارہا ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ واشنگٹن دو ریاستی حل سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے فلسطینی حکام کو ویزے جاری نہیں کرے گا۔ واشنگٹن نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانونی جنگ کی مہمات کے ذریعے مذاکرات کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو روکے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں اپیلیں اور ایک فرضی فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرانے کی کوششیں شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان دو اقدامات نے حماس کے یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار اور غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کے خاتمے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
اپنے رد عمل میں فلسطینی صدر کے دفتر نے امریکی وزارت خارجہ کے اس فیصلے پر گہرے افسوس اور حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور ہیڈ کوارٹرز معاہدے کے خلاف ہے، خاص طور پر اس لیے کہ فلسطینی ریاست اقوام متحدہ میں ایک مبصر رکن ہے۔
فلسطینی صدر کے دفتر نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔ اس فیصلے کو واپس لے جس کے تحت فلسطینی وفد کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے داخلے کے ویزے نہیں دیے گئے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی “وفا” کے مطابق صدر کے دفتر نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی جائز فیصلوں کے ساتھ اپنی وابستگی پر زور دیا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے صحافیوں کو بتایا کہ 89 سالہ فلسطینی صدر محمود عباس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کا منصوبہ تھا۔ امریکی وزارت خارجہ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ریاض منصور نے مزید کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ اس کا بالکل کیا مطلب ہے اور یہ ہمارے وفد کے کسی بھی رکن پر کیسے لاگو ہوتا ہے اور ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجاریک نے کہا کہ یہ “اہم” ہے کہ تمام ممالک اور مبصرین، جن میں فلسطینی بھی شامل ہیں، جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے آغاز سے ایک دن پہلے ہونے والی سربراہی کانفرنس میں نمائندگی کریں۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ستمبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے حکام کو ویزے دینے سے انکار کا واشنگٹن کا فیصلہ ایک “بہادرانہ اقدام” ہے۔ جدعون ساعر نے ایکس پر لکھا فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کو دہشت گردوں کو انعام دینے، نفرت کو ہوا دینے اور اسرائیل پر قانونی جنگ مسلط کرنے کی کوششوں پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرنے پر اٹھائے جانے والے اس اقدام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہم اس بہادرانہ اقدام اور ایک بار پھر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے فرانس اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو حماس کے لیے انعام قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر میکرون، جنہوں نے غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی حملے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے، کا خیال ہے کہ امن عمل کو آگے بڑھانے میں مزید تاخیر نہیں ہو سکتی۔
میکرون نے 22 ستمبر کو دو ریاستی حل پر ایک خصوصی سربراہی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باقاعدہ افتتاح سے ایک روز پہلے ہے۔ اس اجلاس میں فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا سب سے نمایاں مغربی ملک ہوگا۔ اس کانفرنس کے اعلان کے بعد کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔ برطانیہ نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا تو وہ بھی ایسا کرے گا۔
یہ پیش رفت سے قبل سعودی عرب اور فرانس نے 28 اور 29 جولائی کو نیو یارک شہر میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں وزارتی سطح پر فلسطینی مسئلے کو پرامن طریقوں سے حل کرنے اور دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کی صدارت کی تھی۔